World
افغانستان میں طالبان کو خانہ جنگی کا خطرہ اور چینی ثالثی کی ناکامی
چین کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کی جانے والی ثالثی کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جس کے بعد طالبان کو شدید داخلی بحران اور خانہ جنگی کے خطرات کا سامنا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف مسلح حملوں اور مزاحمتی کارروائیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔
افغانستان میں حکمران طالبان کو ایک بار پھر شدید داخلی بحران اور ممکنہ خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ چین کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کی جانے والی سفارتی ثالثی کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق علاقائی سطح پر امن کے قیام کے لیے بیجنگ کی جانب سے کی جانے والی کوششیں زمینی حقائق اور فریقین کے مابین سخت کشیدگی کی وجہ سے بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔ اس ناکامی کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں بھی تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کاپیسا کے علاقے میں طالبان پر راکٹ حملے کی اطلاع ملی ہے جبکہ ملک کے شمالی حصوں میں سرگرم مختلف مزاحمتی گروہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کارروائیوں کے دوران طالبان کے متعدد اہلکار مارے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر نیوز اور دیگر ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایک متحدہ محاذ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے طالبان کے ایک اہم انٹیلی جنس ممبر کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان حملوں کے بعد شمالی افغانستان میں طالبان کی سکیورٹی اور حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور مبصرین اس صورتحال کو ہبت اللہ کی سایہ دار حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر داخلی مزاحمت کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور خطے کے ممالک کے درمیان سفارتی ڈیڈلاک ختم نہ ہوا تو افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی ہولناک لپیٹ میں آ سکتا ہے جس سے نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کا امن شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔