LIVE
Loading Breaking News...

پی ایس ایکس میں مندی، آئی ایم ایف فنڈنگ کے باوجود کے ایس ای 100 انڈیکس گر گیا

News Image
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی نئی فنڈنگ کی منظوری کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی مثبت رجحان کو برقرار نہ رکھ سکا اور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث سینکڑوں پوائنٹس گر گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی نئی آئی ایم ایف لائف لائن ملنے کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور بازارِ حصص میں ایک بار پھر مندی کا رجحان غالب آگیا۔ کاروباری ہفتے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی سیشن میں مثبت زون میں داخل ہوا تھا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے کچھ جوش و خروش بھی دیکھا گیا تھا، تاہم دن کے اختتام تک یہ تمام ابتدائی فوائد ضائع ہو گئے اور مارکیٹ نیچے آ گئی۔ تجارتی سرگرمیوں کے دوران انڈیکس میں تین سو پچاس سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق پرافٹ ٹیکنگ کے شدید دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر ایک ہزار ایک سو اڑتیس پوائنٹس تک بھی نیچے گیا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے فنڈز کی منظوری کے باوجود مارکیٹ میں سست روی اور سست کاروباری حجم کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ اور پرافٹ ٹیکنگ ہے۔ طویل مدتی اقتصادی اصلاحات اور ملکی معیشت کی مجموعی سمت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو بڑی خریداریاں کرنے سے روکے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ، کاروباری حلقوں میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ عالمی امداد ملکی معیشت کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے کافی ثابت ہوگی یا نہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ملنے والی یہ رقم زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، لیکن اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑی قلیل مدتی فوائد حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی استحکام اور حکومتی پالیسیوں کا تسلسل ہی مارکیٹ کی اصل سمت کا تعین کرے گا۔