LIVE
Loading Breaking News...

آئی فون ایئر ٹو کی نئی افواہیں: 5.2 ملی میٹر الٹرا تھن ڈیزائن

News Image
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایپل کے آنے والے نئے سمارٹ فون آئی فون ایئر ٹو کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق اس کی موٹائی محض 5.2 ملی میٹر ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی باریک ہونے کے باوجود اس میں بہتر بیٹری لائف اور دیگر اہم اپ گریڈز فراہم کیے جائیں گے۔
ٹیکنالوجی کے معروف حلقوں میں ایپل کے آئندہ آنے والے ڈیوائس آئی فون ایئر ٹو کے حوالے سے بحث کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس اور افواہوں کے مطابق ایپل ایک بار پھر اپنے ڈیزائن میں نمایاں تبدیلی لانے کا ارادہ رکھتا ہے اور آئی فون ایئر ٹو کو انتہائی باریک یعنی محض 5.2 ملی میٹر موٹائی کے ساتھ مارکیٹ میں متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ اس خبر نے دنیا بھر کے ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ اس قدر کم موٹائی کے باوجود صارفین کو جدید فیچرز کی توقع ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس الٹرا تھن ڈیزائن کے باوجود ایپل اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ فون کی بیٹری لائف اپنے پیش رو کے مقابلے میں بہتر ہو۔ صارفین کے لیے یہ ایک بہت بڑی راحت کی بات ہوگی کیونکہ اکثر انتہائی باریک فونز میں بیٹری کی کارکردگی اور صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ تاہم، ایپل کے انجینئرز نے مبینہ طور پر اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور توانائی کی بچت کرنے والے ہارڈ ویئر کا استعمال کیا ہے تاکہ صارفین کو بہترین کارکردگی فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، آئی فون ایئر ٹو میں کچھ اور اہم اپ گریڈز بھی متوقع ہیں جو اسے صارفین کے لیے زیادہ دلکش بنائیں گے۔ اگرچہ بعض تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ اس قدر باریک فون بعض اوقات عملی استعمال میں کچھ پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، لیکن ایپل کے حامیوں اور ڈیزائن کے شوقین افراد کے نزدیک یہ ایک انقلابی قدم ہے۔ فون کے کیمرہ موڈیول، پروسیسر اور مجموعی ساخت میں بھی بہتری لائے جانے کی توقع کی جا رہی ہے جو ایپل کے روایتی معیار کے عین مطابق ہوگی۔ آنے والے مہینوں میں اس ڈیوائس کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے، جب ایپل کی جانب سے باضابطہ اعلانات کیے جائیں گے۔ تاحال یہ تمام اطلاعات لیکس اور مارکیٹ کی افواہوں پر مبنی ہیں، لیکن ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والا آئی فون ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ایک نیا سنگ میل عبور کرنے کے لیے تیار ہے۔ صارفین اور ٹیک تجزیہ کار اس ڈیوائس کی باضابطہ رونمائی کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔