LIVE
Loading Breaking News...

طلاق یافتہ بیٹی کے حقوق اور معاشرتی رویے، زوہ توقیر کا بیان

News Image
معروفی شخصیت زoha توقیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاشرے میں طلاق یافتہ بیٹی کو قبول کرنا اور اس کی زندگی بچانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ بیٹیوں کی عزت اور زندگی کو سماجی دباؤ سے زیادہ اہمیت دیں۔
معاشرتی امور اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے زوہ توقیر نے ایک نہایت اہم اور گہرا نکتہ اٹھایا ہے کہ ایک طلاق یافتہ بیٹی، مردہ بیٹی سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معاشرے میں شادی ٹوٹ جانے کے بعد بیٹیوں کو ذہنی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی خاندان بدنامی کے ڈر سے بیٹیوں کے غلط یا ظالمانہ رشتوں کو ختم کرنے سے کتراتے ہیں، جس کے اکثر نتائج انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ زوہ توقیر نے اس بات پر شدید زور دیا کہ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بیٹی کی زندگی اور اس کی نفسیاتی و جسمانی سلامتی کسی بھی سماجی خوف یا خاندانی انا سے زیادہ اہم ہے۔ طلاق کو ایک گالی یا معاشرتی داغ سمجھنے کے بجائے، اسے ایک مشکل رشتے سے نکلنے اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کا قانونی اور شرعی حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جب تک خاندان اپنی بیٹیوں کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوں گے، معاشرے میں استحصال کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس بیان کو مختلف حلقوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں والدین کی کونسلنگ کی جائے۔ شوبز، سیاست اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اس بات کی تائید کر رہی ہیں کہ بیٹیوں کو جینے کا حق دیا جائے، چاہے اس کے لیے طلاق کا تلخ فیصلہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ماہرینِ عمرانیات کا بھی کہنا ہے کہ اگر خاندان اپنی بیٹیوں کو طلاق کے بعد واپس گھر لانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیں، تو بہت سی خواتین کو گھریلو تشدد اور ٹارچر سے بچایا جا سکتا ہے۔ زوہ توقیر کا یہ بیان اس سمت میں ایک اہم فکری تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بیٹی کی جان اور اس کی عزت کو معاشرتی روایات پر فوقیت دی جائے۔