World
فرانس میں طلباء کے احتجاج اور منقسم معاشرے کی کہانی
فرانس میں حالیہ طلباء کے احتجاج نے ملک کی بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن کو کھل کر سامنے لے آیا ہے۔ سڑکوں پر جاری ان مظاہروں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ نوجوان طبقہ اور ریاست کے درمیان خلیج کتنی گہری ہو چکی ہے۔
فرانس میں طلباء کی جانب سے سڑکوں پر نکل کر کیے جانے والے مظاہرے اب ملک کی سیاست کے اندر گہرے ہوتے ہوئے پولرائزیشن اور تقسیم کا ایک بڑا مرکز بن چکے ہیں۔ یہ احتجاجی تحریکیں صرف تعلیمی یا معاشی مطالبات تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک وسیع تر سماجی بے چینی کارفرما ہے جو فرانسیسی معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو نمایاں کرتی ہے۔ دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں طلباء کا یہ جوش و خروش اس بات کا غماز ہے کہ نوجوان نسل روایتی سیاسی ڈھانچے اور حکومتی پالیسیوں سے کس قدر دل برداشتہ ہو چکی ہے۔
اس احتجاجی لہر کے دوران سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ریاست کے روایتی اداروں اور خاص طور پر پولیس کے ساتھ نوجوانوں کا تنازع ہے۔ فرانس میں سکیورٹی فورسز کے خلاف پائے جانے والے نعرے اور جذبات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران کس حد تک سنگین ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پولیس اور طلباء کے درمیان یہ محاذ آرائی دراصل حکومتی جبر اور عوامی آزادی کے مباحثوں کا تسلسل ہے، جہاں ہر ناخوشگوار واقعے کے بعد دونوں اطراف سے فاصلے مزید بڑھ جاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں فرانسیسی سیاست میں انتہا پسندی اور نظریاتی تقسیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے نچلی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ طلباء کا سڑکوں پر آنا محض تعلیمی اداروں کے مسائل کا حل مانگنا نہیں بلکہ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ اپنی مستقبل کی سمت کے تعین میں خود کو نظر انداز محسوس کرتا ہے۔ جب تک حکومتی مشینری اس اندرونی بحران کی جڑوں تک نہیں پہنچتی اور حقیقی مذاکرات کا راستہ نہیں اپناتی، اس قسم کے احتجاج اور سماجی بداعتمادی میں کمی آنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔