World
ٹرمپ انتظامیہ کا ووٹر ڈیٹا استعمال کرنا غیر قانونی قرار
ایک وفاقی جج نے انصاف محکمے کی طرف سے امیگریشن ڈیٹا بیس کے ساتھ کراس ریفرنس کے لیے ووٹر ڈیٹا کے استعمال کے خلاف فیصلہ صادر کیا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ووٹروں کی معلومات کے حصول کے طریق کار پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔
امریکی تاریخ میں ڈیٹا کے استعمال اور شہریوں کی رازداری کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں انصاف محکمے کی جانب سے ووٹر ڈیٹا کے استعمال کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت کی طرف سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ووٹروں کی معلومات کی حفاظت اور حکومتی اداروں کی طرف سے ان کے استعمال پر طویل عرصے سے بحث جاری تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے حکومتی اداروں کے اختیارات اور ڈیٹا بیس کے باہم ملاپ پر نئی قدغنیں لگ سکتی ہیں۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق، تنازع اس وقت شروع ہوا جب محکمہ انصاف نے امیگریشن سے متعلق معاملات کی جانچ پڑتال اور تصدیق کے لیے ووٹروں کے ریکارڈ کا استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس عمل کے تحت ووٹر ڈیٹا کو امیگریشن ڈیٹا بیس کے ساتھ کراس ریفرنس کیا جا رہا تھا تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ تاہم، شہری حقوق کی تنظیموں اور اس عمل سے متاثرہ فریقین نے اس اقدام کو وفاقی قوانین اور شہریوں کی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
عدالت میں ہونے والی طویل سماعت کے دوران دونوں فریقین نے اپنے دلائل پیش کیے، جہاں مدعیان نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کی طرف سے ووٹروں کی معلومات کا اس طرح استعمال رائے دہندگان کے بنیادی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔ جج نے تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا کہ انصاف محکمے کا یہ اقدام مقررہ قانونی دائرہ کار سے باہر تھا۔ اس فیصلے کے بعد حکومتی اداروں کے لیے اس نوعیت کے ڈیٹا بیسز تک رسائی اور ان کا تبادلہ مزید مشکل ہو جائے گا، جسے سول سحر اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔