World
یمن میں مکمل جنگ کی واپسی، اقوام متحدہ کے ایلچی کی تشویش
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں تنازع ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف لوٹ چکا ہے۔ سعودی عرب اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت نے حوثی شدت پسندوں کی کارروائیوں کے پیش نظر سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک ایک بار پھر مکمل جنگ کی خطرناک صورتحال کی طرف لوٹ چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں حوثی گروپ کی جانب سے جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے باعث خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے، جس پر عالمی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ مزید انسانی المیے کو روکا جا سکے۔اس صورتحال کے تناظر میں، سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف فوری اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔ حکومتی نمائندگان کا کہنا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے سلامتی کونسل کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور حوثی عناصر کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔یمن کے عوام طویل عرصے سے جاری اس تباہ کن تنازع کے نتیجے میں پہلے ہی شدید مصائب کا شکار ہیں۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ نیا سلسلہ نہ روکا گیا تو یمن میں انسانی امداد کی فراہمی بھی متاثر ہوگی اور کروڑوں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، خطے میں جاری اس کھینچاتانی کو ختم کرنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔