LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی لانگ مارچ: کے پی کے وزیر اعلیٰ کی صوابی انٹرچینج پر احتجاج کی کال

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے ملک بھر کے عوام کو 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے اس اقدام اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے ملک بھر سے عوام کو دعوت دی ہے کہ وہ 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر پہنچیں جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جیل میں قید بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے نکالے جانے والے لانگ مارچ کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ 4 اکتوبر کو آغاز کے بعد سے اس مارچ کے روٹ پلان میں متعدد بار تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اگرچہ پارٹی نے ابتدائی طور پر اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن اس کی حتمی منزل فی الحال غیر یقینی دکھائی دیتی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ نے صوابی کے بعد کے سفر کے بارے میں ابھی تک مکمل منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔ اب تک یہ مارچ خیبر پختونخوا کی حدود کے اندر ہی رہا ہے جہاں پی ٹی آئی برسرِ اقتدار ہے۔ راستے میں چارسدہ کے قریب شرکاء سے مختصر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کارکنوں کو یقین دلایا کہ وہ گھبرائیں نہیں کیونکہ صوابی کے بعد انہیں دیگر مقامات کا بھی رخ کرنا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کو 'کھوکھلی دھمکیاں' قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حد پار کرنے کے بعد وفاق کارکنوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ مارچ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع ہوا، خاص طور پر انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ وفاقی وزراء نے پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا سے باہر مارچ نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے اور اس صورتحال کو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ادھر، پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور احتجاج کرنے والوں کو چیلنج کیا کہ وہ ہمت کریں اور صوابی کی حد کو عبور کر کے دکھائیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی یہ لوگ صوابی کا رخ کرتے ہیں تو ان کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ اپنے وزرا اور اراکینِ اسمبلی کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور ایسے نااہل حکمرانوں کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ڈاکٹرز، اساتذہ اور نرسیں سراپا احتجاج ہیں جبکہ حکومت امن و امان بحال کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں عدم اعتماد کے بعد ملکی معاشی اشاریے مسلسل منفی سمت میں جا رہے ہیں اور پاکستان گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں سرفہرست آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور اس کے عوام روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہے ہیں لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان کی تجاویز کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا۔ انہوں نے مرکز پر صوبے کے فنڈز نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ سیاسی کشیدگی کے اس ماحول میں دونوں طرف سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر ہونے والا اجتماع ملکی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔