LIVE
Loading Breaking News...

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا اہم بیان

News Image
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مرکز نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تمام غوروخوض مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون نہ ملنے کی صورت میں آئین کے تحت سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مرکز نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی امور پر تفصیلی مشاورت مکمل کر لی ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون نہیں کرتی تو مرکز کے پاس ایمرجنسی نافذ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا تاکہ صوبے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ صوبے کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ انتہائی نوعیت کے اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مسلسل شہادتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے طویل عرصے تک کے پی حکومت کو ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن صوبائی قیادت مرکز کی امن کوششوں کے سامنے رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اب اس صورتحال کا ایک کٹ آف پوائنٹ آ چکا ہے جہاں مزید تاخیر کی گنجائش باقی نہیں رہی اور ریاست کو فیصلہ کن اقدام اٹھانا ہی ہوگا۔ پی ٹی آئی کے احتجاجی لانگ مارچ اور ایمرجنسی کے نفاذ کے درمیان تعلق کے سوال پر طارق فضل چوہدری نے اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پی ٹی آئی کے مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ دونوں کا ایک وقت میں ہونا محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ پورے صوبے پر ہوگا نہ کہ صرف چند مخصوص اضلاع پر، اور اب گیند مکمل طور پر خیبر پختونخوا حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ امن و امان کے معاملے پر کیسا رویہ اختیار کرتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف کے سربراہ نے مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن خود تحریک انصاف میں اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کے دروازے کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتے، تاہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کے پی حکومت کی جانب سے سنجیدہ تعاون ہی اس مسئلے کا مستقل حل فراہم کر سکتا ہے۔