LIVE
Loading Breaking News...

کے الیکٹرک کا بیان: ایل این جی کی قلت کے باعث کراچی میں لوڈشیڈنگ کا خدشہ

News Image
کے الیکٹرک نے عالمی سطح پر ایل این جی کی سپلائی میں خلل اور کارگو کی تاخیر کی وجہ سے رات کے اوقات میں بجلی کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار رہے گی۔
کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کی فراہمی کرنے والے ادارے کے الیکٹرک نے جمعہ کے روز ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر ری گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس یعنی آر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل اور درآمدی کارگو کی تاخیر کے باعث ادارے کو مجبوری کے تحت رات کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ یعنی عارضی لوڈشیڈنگ کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔ کے الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ملک بھر میں گیس کی قلت کے تناظر میں یہ اقدام ایک آخری اور انتہائی صورتحال کے طور پر اٹھایا جا سکتا ہے جو کہ صرف شام اور رات کے اوقات میں پیک آورز کے دوران لاگو ہوگا۔ تاہم، انہوں نے یقین دلایا کہ دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق مستحکم رہے گی اور صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جاتی رہے گی۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ صورتحال کو جلد از جلد معمول پر لایا جا سکے اور اس عارضی بحران پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے صارفین کو ہونے والی ممکنہ زحمت پر معذرت بھی کی۔ واضح رہے کہ ملک کو اس وقت مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اہم سپلائی روٹس میں رکاوٹوں کی وجہ سے شدید ایندھن کے بحران کا سامنا ہے، جس نے تیل اور گیس کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ توانائی کی ٹاسک فورس اور متعلقہ حکام آئندہ سردیوں کے مہینوں کے لیے ایل این جی کی درآمدی منصوبہ بندی میں شدید مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ عالمی منڈی اور مالیاتی چیلنجز کے باعث مطلوبہ مقدار میں کارگو کی دستیابی ایک مشکل امر بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بحران نہ صرف توانائی کے شعبے پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان میں گیس اور ایندھن کی قلت کا یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے، اس سے قبل بھی رواں سال کے دوران صارفین کو مختلف مواقع پر اسی نوعیت کی بندشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے سفارتی اور تنظیمی سطح پر تمام ممکنہ ذرائع بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ آنے والے سردیوں کے مہینوں میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور ملک میں توانائی کی طلب و رسد کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔