LIVE
Loading Breaking News...

واشنگتن ڈی سی میں سیلف ڈرائیونگ کاروں کے خلاف لیبر یونینز کی جدوجہد اور اوبر کا مؤقف

News Image
واشنگتن ڈی سی کونسل میں خودکار گاڑیوں کے نفاذ سے متعلق ایک متنازع بل زیر غور ہے جس پر لیبر یونینز اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ اس معاملے میں اوبر نے غیر متوقع طور پر لیبر یونینز کا ساتھ دیا ہے جو خودکار گاڑیوں کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کی مخالفت کر رہی ہیں۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگتن ڈی سی میں خودکار گاڑیوں (اے وی) کے حوالے سے کشمکش اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی سروسز کو پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں تو دوسری طرف لیبر یونینز سخت مخالفت میں سامنے آ گئی ہیں۔ اس پورے تنازع میں سب سے دلچسپ موڑ یہ ہے کہ معروف رائیڈ شیئرنگ کمپنی اوبر نے خودکار گاڑیوں کے بڑے پیمانے پر نفاذ کے خلاف مزدور یونینز کا ساتھ دیا ہے، جو کہ ایک غیر متوقع اتحاد سمجھا جا رہا ہے۔ واشنگتن ڈی سی کونسل میں اس وقت ایک متنازع قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے جو مستقبل میں نقل و حرکت کے اس شعبے کی سمت کا تعین کرے گی۔ ماہرین کے مطابق، یہ صرف ایک شہر کی قانون سازی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک میں خودکار گاڑیوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ لیبر یونینز کا مؤقف ہے کہ ڈرائیور لیس گاڑیوں کی آمد سے بڑی تعداد میں ڈرائیورز کی روزگار کے مواقع چھن جائیں گے اور سڑکوں پر حفاظتی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، ویمو جیسی کمپنیاں جو کہ مکمل طور پر خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں، اس بل اور مخالفت کو جدید ٹیکنالوجی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے شہر میں اختترات اور جدید سہولیات کی فراہمی سست ہو جائے گی۔ اس صورتحال نے پالیسی سازوں کو ایک مشکل دواہے میں لا کھڑا کیا ہے جہاں انہیں ایک طرف تکنیکی ترقی اور اختراع کو فروغ دینا ہے تو دوسری طرف محنت کش طبقے کے حقوق اور روزگار کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔ اوبر کا یونینز کی صف میں شامل ہونا اس بات کا غماز ہے کہ روایتی رائیڈ شیئرنگ کمپنیاں بھی اس نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو اپنے کاروباری ماڈل اور روزگار کے ڈھانچے کے لیے ایک خطرہ سمجھتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں واشنگتن ڈی سی کونسل کا فیصلہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خودکار گاڑیوں کی صنعت کے لیے ایک اہم مثال بنے گا۔ تمام فریقین اس بل کے حتمی نتائج پر نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں، اور یہ جنگ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا مستقبل کی سڑکوں پر انسانوں کا راج ہوگا یا پھر روبوٹ ٹیکسیاں اور خودکار گاڑیاں ہی نقل و حرکت کا واحد ذریعہ بنیں گی۔