World
ریاض میں پاکستانی افواج اور مکہ ڈیفنس الائنس پر دفتر خارجہ کا بیان
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پہلے ہی پاکستان کی نمایاں فورسز اور وسائل موجود ہیں۔ مکہ ڈیفنس الائنس کی تشکیل کا مقصد خطے کے امن اور اجتماعی دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے جمعہ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے سے ہی ریاض میں خاطر خواہ تعداد میں افواج اور وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب یمن کی حوثی ملیشیا اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت آ چکی ہے اور مکہ دفاعی معاہدے کے تحت خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گفتگو جاری ہے۔ مکہ ڈیفنس الائنس میں ترکیہ بھی شامل ہے جس پر دستخط گزشتہ ماہ اگست میں کیے گئے تھے۔ اس سہ فریقی معاہدے کا بنیادی مقصد اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا اور کسی بھی رکن ملک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کرنا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ الائنس کے تمام رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب یہ تنظیم کی صوابدید ہے کہ وہ خطے میں خطرات کا جائزہ لے اور اپنے طے شدہ مینڈیٹ کے مطابق اقدامات کرے۔ آپریشنل امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر مزید تفصیلات دینا یا قیاس آرائیاں کرنا قبل از وقت ہوگا۔ دوسری جانب یمن کے تنازع اور حوثیوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے انہوں نے خطے میں غیر استحکام پیدا کرنے والی پراکسی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے بھی واضح کیا جا چکا ہے کہ پاکستان ایئرفورس کے استعمال سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں جبکہ ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق خبروں کو بھی قیاس آرائی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم مکہ ڈیفنس الائنس کے ہنگامی اجلاس کے بعد رکن ممالک نے فوری طور پر دفاعی صلاحیتوں کو متحرک کرنے اور ضروری اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا ہے۔