Politics
بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہا پسندانہ سیاست ترک کرنے کا مشورہ
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی انتہا پسندانہ اور منفی سیاست اس کی اپنی جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے سیاسی رویے کو بدلے اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کے روز کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی انتہا پسندانہ سیاست دراصل اس کی اپنی جماعت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرے تاکہ ملک اور خود اس جماعت کے کارکنوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک انصاف ایک ایسی جماعت ہے جسے عوامی حمایت حاصل ہے، لیکن وہ اپنے فیصلوں اور انتہا پسندانہ رویے کی وجہ سے بار بار عوام کو مایوس کر رہی ہے۔ اس وقت وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پی ٹی آئی کا کوئی موثر سیاسی کردار نہیں ہے، اور اگر اس نے یہی روش برقرار رکھی تو خیبر پختونخوا میں بھی اس کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں معاشی بدحالی اور غربت عروج پر ہے، عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان خطے میں بے روزگاری اور غربت کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے۔ ایسے نازک وقت میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام فریقین کو بات چیت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ یہی موقف اپنایا ہے کہ سیاسی بحرانوں کا حل مذاکرات میں ہی پوشیدہ ہے، لیکن بدقسمتی سے صوبائی سطح پر ایک صوبائی وزیر اعلیٰ نے مثبت مذاکرات کی بجائے منفی سیاست کو ترجیح دی، جس سے ملک اور صوبے کے عوام کے ساتھ ساتھ خود پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں اور دھرنے کی سیاست پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ قیادت جیل میں بند بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے احتجاج کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اداروں، پارلیمنٹ اور عدلیہ سے محاذ آرائی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جو رہنما آج جیل میں ہیں وہ کل باہر بھی آ سکتے ہیں، اور اگر پی ٹی آئی نے انتہا پسندانہ سیاست جاری رکھی تو بانی پی ٹی آئی طویل عرصے تک جیل میں ہی رہیں گے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے پاس طویل قید کا ریکارڈ موجود ہے، لیکن سیاسی جدوجہد اور درست فیصلوں سے حالات بدل جاتے ہیں۔ بلاول نے تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندانہ اور نفرت کی سیاست کو خیرباد کہے تاکہ ملک میں ایک بہتر سیاسی ماحول جنم لے سکے۔