Pakistan
کے پی میں مارخور ٹرافی ہنٹنگ پرمٹس کی نیلامی سے ریکارڈ آمدنی
خیبر پختونخوا میں مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کے پرمٹس کی نیلامی نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سترہ لاکھ روپے سے زائد کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے۔ اس فنڈ کا بڑا حصہ مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود اور جنگلی حیات کے تحفظ پر خرچ کیا جائے گا۔
پشاور: خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام مارخور کی بین الاقوامی ٹرافی ہنٹنگ کے چار پرمٹس کی نیلامی سے 1.21 ملین ڈالر یعنی پاکستانی روپے میں تقریباً 33 کروڑ 57 لاکھ روپے کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی گئی ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، پاکستان کی تاریخ میں ٹرافی ہنٹنگ کے پروگرام سے حاصل ہونے والی یہ اب تک کی سب سے بڑی اور بلند ترین رقم ہے۔ محکمہ نے چترال اور کوہستان کی مختلف ولیج کنزرویشن کمیٹیز کے لیے مارخور ٹرافی ہنٹنگ کے ان پرمٹس کی نیلامی کا ایک تاریخی عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے۔ نیلامی کے دوران توشی ون چترال کا پرمٹ 3 لاکھ 20 ہزار 600 ڈالر، توشی ٹو چترال 3 لاکھ 35 ہزار 600 ڈالر، گاہیرت گول چترال 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر جبکہ کیگاہ خوارد کوہستان کا پرمٹ 2 لاکھ 95 ہزار 600 ڈالر میں فروخت ہوا۔ تمام چاروں پرمٹس نے مجموعی طور پر 12 لاکھ 11 ہزار 800 ڈالر کی خطیر رقم اکٹھی کی ہے، جس نے ملکی تاریخ کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس پروگرام پر عالمی سطح پر کچھ حلقوں کی طرف سے بحث کی جاتی ہے تاہم حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، مقامی آبادی کو معاشی فوائد ملتے ہیں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔ کے پی وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان لطیف الرحمن نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت صرف محدود پرمٹس جاری کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے صرف عمر رسیدہ اور پختہ نر مارخور کا شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلی حیات کا تحفظ، قدرتی آبادی کا پائیدار انتظام اور مقامی کمیونٹیز کو اس عمل سے معاشی طور پر مستفید کرنا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک نیلامی نہیں بلکہ تحفظ کے ایک فلسفے کی کام یابی کی کہانی ہے، جہاں جنگلات محفوظ ہوتے ہیں وہاں جنگلی حیات پنپتی ہے، اور جب کمیونٹیز خوش حال ہوتی ہیں تو قدرت کا مستقبل مزید محفوظ ہو جاتا ہے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کا 80 فیصد حصہ براہ راست متعلقہ مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ باقی 20 فیصد رقم سرکاری خزانے میں جمع کی جاتی ہے۔ پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگ نسلوں سے قدرت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور حکومت کی یہ پالیسی اس رشتے کو مزید مضبوط اور پائیدار شراکت داری میں بدل رہی ہے۔