World
روسی ڈیزل معاہدہ، زیلنسکی کی برہمی اور امریکی فیصلے کی تفصیلات
امریکی صدر کی جانب سے روس سے ڈیزل خریدنے کے حیرت انگیز معاہدے کے اعلان کے بعد یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی شدید برہم ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس اقدام سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے دباؤ کا انکشاف ہوتا ہے تاہم یوکرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے روس کے ساتھ ایک نئے معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت روس امریکہ اور عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس اچانک پیش رفت نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور خاص طور پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے اس پر شدید ترین غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں لانے اور معاشی دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، تاہم اس نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے سمیت دنیا کے کئی اہم خبر رساں اداروں نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ یہ معاہدہ کس طرح عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ لے کر آ سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ایندھن کی رسد بہتر ہو گی اور صارفین کو ریلیف ملے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ مغربی ممالک کی طرف سے روس پر عائد پابندیوں اور پالیسیوں کے بھی برعکس دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے یوکرین اور اس کے اتحادیوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے اس معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یوکرین کی جنگی کوششوں اور عزم کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے معاہدے نہ صرف روس کو معاشی فائدہ پہنچاتے ہیں بلکہ اس کے اثرات براہ راست مشرقی یورپ کی سلامتی اور استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ کو اندرونی سطح پر مہنگائی اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے داموں کا جو سامنا ہے، شاید یہ فیصلہ اسی سیاسی ضرورت کے تحت کیا گیا ہو۔
آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے بین الاقوامی تعلقات اور خاص طور پر روس اور یوکرین تنازع پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ توانائی کی سیاست ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے فیصلوں کا محور بن چکی ہے، جس پر دنیا بھر کی نگاہیں مرکوز ہیں اور اس کے سفارتی اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔