LIVE
Loading Breaking News...

حوثی حملے اور سعودی عرب کے ہوائی رابطے متاثر

News Image
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے ہوائی رابطوں پر شدید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر پی آئی اے سمیت کئی ایئر لائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے ملک کے اہم ہوائی رابطوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں ایک طیارے کو نقصان پہنچا اور سعودی حکام کے مطابق اس لرزہ خیز حملے میں تین شہری بھی جاں بحق ہو گئے۔ باغیوں کا مقصد مملکت کو دنیا کے باقی حصوں سے کاٹنا اور اقتصادی و سفارتی طور پر تنہا کرنا ہے۔ اس صورتحال نے پورے خطے میں سکیورٹی خدکات کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ اس کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے فوری اثرات بین الاقوامی اور علاقائی ہوابازی پر بھی پڑے ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ غیر یقینی اور خطرناک صورتحال کے پیش نظر ریاض کے لیے تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مسافروں اور طیاروں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور صورتحال بہتر ہونے تک پروازیں معطل رہیں گی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری اور یمن کی تسلیم شدہ وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا ہے۔ یمنی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی اس جارحیت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کی گئی ہے اور عالمی ادارے سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سعودی عرب اور اتحادی افواج کی جانب سے بھی حوثی باغیوں کے اس طرح کے حملوں کا دفاعی اور جوابی کارروائیوں کے ذریعے مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ حملوں نے اس بات کو اجاگر کر دیا ہے کہ یمن کا تنازع کس قدر خطرناک رخ اختیار کر چکا ہے اور اگر فوری طور پر کوئی سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو خطے کا امن اور عالمی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔