Technology
ملائشیا میں اسٹارلنک ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی کا تجربہ
ملائشیا کے مواصلاتی وزیر فہمی فضل نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں اسٹارلنک کی ڈائریکٹ ٹو سیل سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے جلد تجربات کیے جائیں گے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے عام فور جی سمارٹ فونز بغیر کسی اضافی سیٹلائٹ فون یا ڈیوائس کے دور دراز علاقوں میں بھی سگنل حاصل کر سکیں گے۔
ملائشیا میں مواصلات کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت متوقع ہے جہاں جلد ہی اسٹارلنک کی جدید ڈائریکٹ ٹو سیل (D2C) سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے تجربات شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ اس بات کا انکشاف ملائشیا کے مواصلاتی وزیر فہمی فضل نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹارلنک کے نمائندوں نے اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے حکام کو تفصیلی بریفنگ دی ہے جس کا بنیادی مقصد ملک کے ان علاقوں تک موبائل کوریج کو پھیلانا ہے جہاں اب تک روایتی ٹیلی کام ٹاورز موجود نہیں ہیں۔ اس اقدام سے دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے مکینوں کو بھی بہترین نیٹ ورک سہولیات میسر آ سکیں گی۔
اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے استعمال کے لیے صارفین کو کسی بھی قسم کے مہنگے اور خصوصی سیٹلائٹ فون خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ یہ سسٹم عام فور جی (4G) سمارٹ فونز کے ساتھ بالکل درست انداز میں کام کرے گا۔ صارفین کے موجودہ موبائل فونز براہ راست خلا میں موجود اسٹارلنک کے سیٹلائٹس کے ساتھ مواصلت قائم کریں گے جس سے روایتی ٹاورز کی عدم موجودگی میں بھی کالز، پیغامات اور بنیادی انٹرنیٹ کی سہولت بلاتعطل جاری رہ سکے گی۔ اس سے قبل دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی اس ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے اور اب ملائشیا بھی اس فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے۔
مواصلاتی وزیر فہمی فضل کے مطابق، حکومت کا یہ قدم ملک بھر میں ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ بہت سے دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے ٹاورز لگانا مالی طور پر مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے شہری رابطے کے جدید ذرائع سے محروم رہتے ہیں۔ اسٹارلنک کی ڈائریکٹ ٹو سیل سروس اس مسئلے کا ایک مؤثر اور پائیدار حل فراہم کرتی ہے۔ تجرباتی مرحلے کی کامیابی کے بعد اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر نافذ کیے جانے کا امکان ہے، جس سے ملائشیا کے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک نیا انقلاب برپا ہو گا اور صارفین کو ملک کے کونے کونے میں مضبوط کنیکٹیویٹی حاصل ہو گی۔