Pakistan
کے پی میں ایمرجنسی کا نفاذ، تیاریاں مکمل، طارق فضل چوہدری کا بیان
مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اب اس حوالے سے حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کے رویے پر منحصر ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاسوں میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تمام تر انتظامی اور سیاسی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں، اور اب اس معاملے میں گیند صوبائی حکومت کے کورٹ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال اور امن و امان کے مسائل کے پیش نظر وفاقی سطح پر اہم فیصلے زیر غور ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم ہاؤس کے اندر ہونے والی اعلیٰ سطح کی مشاورتی بیٹھکوں میں صوبے کے اندر گورنر راج نافذ کرنے اور ایمرجنسی کے نفاذ جیسے تمام ممکنہ آئینی آپشنز پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف حکومتی حلقوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے متوقع لانگ مارچ اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سخت بیانات بھی دیے جا رہے ہیں۔ وفاقی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبے میں گورننس کے بحران اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر وفاقی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے پہلے ہی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ گورنر ہاؤس کی جانب سے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد اب سیاسی اور انتظامی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ مرکز کی جانب سے کوئی بڑا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے چند روز صوبائی اور وفاقی حکومت کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے، کیونکہ دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی بھی لچک کا مظاہرہ کرنے سے گریزاں ہیں۔