World
امریکہ ایران کشیدگی اور ٹرمپ کا مڈٹرم انتخابات سے قبل حملے سے انکار
ایرانی حکام اس وقت امریکہ کے حالیہ ردعمل اور ممکنہ اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب، خبروں کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات سے قبل کسی بھی عسکری کارروائی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی اور عسکری کشیدگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ایرانی حکام نے امریکہ کے حالیہ ردعمل اور بیانات کا گہرائی سے جائزہ لینا شروع کر دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی قیادت خطے میں بدلتی ہوئی سٹریٹجک صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ امریکی یا اتحادی اقدام کا توڑ تلاش کرنے کے لیے ہنگامی سطح پر مشاورت جاری ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈیوں میں بھی اس صورتحال کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں جہاں تیل کی قیمتیں فی الحال مستحکم بتائی جاتی ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق، امریکی سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی تھی کہ آیا مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف کوئی بڑا عسکری قدم اٹھایا جائے گا یا نہیں۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر کسی بھی قسم کے براہ راست حملے کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں میں اچانک آنے والے ممکنہ تلاطم میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور کاروباری حلقوں نے سکون کا سانس لیا ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران کریملن یعنی روسی حکومت نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے روس کی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ روس خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کے لیے مسلسل متحرک ہے۔ بین الاقوامی برادری اس بات کی منتظر ہے کہ آیا تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطے کسی دیرپا سیز فائر یا معاہدے کی طرف بڑھتے ہیں یا پھر تناؤ کا یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرتا ہے۔