LIVE
Loading Breaking News...

گوگل ارتھ کا نیا اے آئی ٹول متنازع تصاویر کی وجہ سے معطل

News Image
گوگل نے صارفین کی طرف سے جعلی تصاویر بنانے کے خدشات سامنے آنے کے بعد گوگل ارتھ میں نیا مصنوعی ذہانت کا فیچر محض ایک دن میں واپس لے لیا۔ کمپنی نے اس معاملے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹول کو عارضی طور پر معطل کیا ہے۔
نکاورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کو اپنے ایک نئے اور اہم منصوبے میں اس وقت بڑی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب اسے لانچنگ کے صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی اپنا نیا مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی امیج جنریشن فیچر واپس لینا پڑا۔ یہ فیچر حال ہی میں 'گوگل ارتھ' کا حصہ بنایا گیا تھا جس کا مقصد صارفین کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تصاویر تخلیق کرنے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ تاہم، لانچ کے فورا بعد ہی اس ٹول کے غلط استعمال اور اس کے ذریعے جعلی تصاویر بنائے جانے کے اسکینڈلز سامنے آنا شروع ہو گئے۔ صارفین نے سوشل میڈیا اور مختلف ٹیک پلیٹ فارمز پر اس بات کا عملی مظاہرہ کیا کہ کس طرح اس ٹول کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے انتہائی غیر مصدقہ اور من گھڑت مناظر تیار کیے جا رہے ہیں۔ گوگل کے اس نئے ٹول کی مدد سے حقیقت سے کوسوں دور ایسی تصاویر بنائی جا رہی تھیں جو اصلی معلوم ہوتی تھیں لیکن حقیقت میں سراسر جعل سازی پر مبنی تھیں۔ اس سنگین سقم کے سامنے آنے کے بعد سکیورٹی اور اخلاقی حوالے سے سخت سوالات اٹھائے جانے لگے، جس سے گوگل کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید اور ممکنہ نقصانات کا بروقت نوٹس لیتے ہوئے، گوگل انتظامیہ نے جمعہ کے روز انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے اس فیچر کو عالمی سطح پر گوگل ارتھ سے ہٹا دیا۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صارفین کا تحفظ اور فراہم کردہ معلومات کی درستگی ان کی اولین ترجیح ہے، اور اس طرح کے نقائص کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے گوگل کے اس بروقت فیصلے کو سراہا ہے تاہم ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے اس کے حفاظتی اقدامات کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ 'ڈیپ فیکس' اور جعلی تصاویر کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گوگل کا یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو اے آئی کے میدان میں قدم رکھتے وقت کتنی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گوگل اس ٹول میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے بعد ہی اسے دوبارہ کسی بہتر اور محفوظ شکل میں پیش کرنے پر غور کرے گا۔