Health
خاندانی طبی تاریخ سے محرومی اور صحت کے مسائل - نیکسورا نیوز
گود لیے گئے افراد اور فوسٹر کیئر میں رہنے والوں کو اکثر خاندانی طبی تاریخ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے سنگین صحت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ معلومات نہ صرف بیماریوں کی بروقت تشخیص بلکہ ان کی روک تھام میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
وہ افراد جو بچپن میں گود لیے جاتے ہیں یا فوسٹر کیئر سسٹم میں پروان چڑھتے ہیں، اکثر اپنی خاندانی طبی تاریخ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ یہ محرومی ان کی بالغ زندگی میں صحت کے حوالے سے کئی پیچیدگیوں اور خدشات کا باعث بنتی ہے۔ جب کسی کو اپنے والدین یا خاندانی پس منظر میں موجود امراض جیسے کہ دل کی بیماریاں، کینسر، یا ہائی بلڈ پریشر کا علم نہیں ہوتا، تو ڈاکٹروں کے لیے بھی بروقت اور درست تشخیص کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ خاندانی طبی تاریخ ایک نقشے کی طرح ہوتی ہے جو ڈاکٹر کو یہ بتاتی ہے کہ مریض کو مستقبل میں کون سا مرض لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے کیسے بچاؤ ممکن ہے۔ اس معلومات کے بغیر مریض اندھیرے میں تیر چلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور وہ کئی بار بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے حفاظتی اقدامات نہیں کر پاتے۔ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب مختلف طبی اداروں اور فلاحی تنظیموں کی طرف سے شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ گود لیے گئے افراد کے لیے جینیاتی ٹیسٹنگ اور متبادل طبی معائنے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ جینیاتی جانچ پڑتال کے ذریعے آج کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کچھ حد تک ان چھپے ہوئے خطرات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم یہ روایتی خاندانی تاریخ کا مکمل نعم البدل نہیں بن سکتی۔ حکومتوں اور صحت کے عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے قوانین اور نظام وضع کریں جس سے گود لینے کے عمل کے دوران طبی دستاویزات کی حفاظت اور ان تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے تاکہ ہر فرد کو اپنی صحت سے متعلق بنیادی معلومات تک رسائی حاصل ہو۔