LIVE
Loading Breaking News...

نوبل امن انعام: ڈونلڈ ٹرمپ کی ناروے پر تنقید

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نوبل امن انعام کے حوالے سے ناروے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوبل انعام جیتنے والی سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج ناوی پلے کے نام سے بھی ناواقف تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی اداروں اور روایتی فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ناروے کو نوبل امن انعام کے اجراء کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ایک پرجوش سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نوبل امن انعام کا فیصلہ ملک کے لیے ایک بدنما داغ کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس عمل سے انعام کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے روایتی جارحانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نامور انعام کی فاتح سے بالکل ناواقف ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، امریکی صدر نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی بھی نوبل امن انعام جیتنے والی سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جج ناوی پلے کا نام نہیں سنا تھا۔ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز بن گیا ہے، کیونکہ نوبل کمیٹی کا تعلق ناروے سے ہے اور روایتی طور پر نارویجن نوبل کمیٹی ہی امن کے انعام کا فیصلہ کرتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے اس قسم کے بیانات عالمی سطح پر سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس تقریب میں موجود حامیوں نے ٹرمپ کے اس بیان پر بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے اس طرح کے نامور اور تاریخی انعامات اور ان کے ججوں پر سوالات اٹھانا عالمی سفارت کاری میں تناتر کا باعث بن سکتا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ ہمیشہ سے روایتی اشرافیہ اور عالمی اداروں کے غیر منصفانہ فیصلوں کے خلاف کھل کر بات کرتے آئے ہیں اور ان کا یہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبل امن انعام کے عمل یا اس کے فاتحین کے انتخاب پر کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہو۔ ماضی میں بھی وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے خواہشمند رہے ہیں اور اس کے لیے مختلف سیاسی شخصیات کی جانب سے ان کی نامزدگی کا ذکر بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اب تازہ ترین بیان نے ایک بار پھر ناروے کی نوبل کمیٹی اور امریکی صدر کے درمیان پائی جانے والی سرد مہری کو دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید سفارتی بحث متوقع ہے۔