LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ پوتن ڈیزل معاہدہ اور یوکرین کا روسی فیول ڈپو پر حملہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ڈیزل کے ایک بڑے معاہدے کا اعلان ہونے کے محض چند گھنٹوں بعد یوکرین نے روس کے ایک اہم فیول ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک اہم ڈیزل معاہدے کے طے پانے کے فوری بعد، یوکرین نے روس کے اندر ایک اہم فیول سائٹ پر بڑا فضائی حملہ کر دیا ہے۔ اس ڈرامائی واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے کیونکہ یہ حملہ دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی مفاہمت اور تجارتی یا توانائی سے متعلقہ امور پر بات چیت کے چند گھنٹوں کے اندر پیش آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کارروائی سے جنگ کے ایک نئے اور شدید مرحلے میں داخل ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ حملہ روس کے اندر واقع ایک ایسے فیول ڈپو پر کیا گیا جو جنگی کوششوں اور عسکری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں فیول سائٹ پر شدید آگ بھڑک اٹھی اور دور دور تک دھوئیں کے سیاہ بادل دیکھے گئے۔ یوکرینی فورسز نے اس کارروائی کو اپنے دفاع اور جارحیت کا جواب قرار دیا ہے، تاہم ماسکو کی جانب سے اس پر سخت ردعمل سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان حالیہ دنوں میں توانائی کے شعبے بالخصوص ڈیزل کے حوالے سے ایک معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا مقصد مبینہ طور پر کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی راستے تلاش کرنا تھا۔ اس معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد یوکرین کا یہ حملہ اس بات کا غماز ہے کہ کیف اپنی عسکری حکمت عملی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ روس کے اندرونی بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا۔ اس حملے کے بعد عالمی منڈیوں اور سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات دونوں سپر پاورز کے درمیان امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں جنگ کے دائرہ کار میں مزید وسعت آ سکتی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔