LIVE
Loading Breaking News...

لندن کا خفیہ بی ٹی ٹاور - تاریخ اور دلچسپ حقائق

News Image
لندن کا مشہور بی ٹی ٹاور اپنے دور کی بلند ترین عمارتوں میں شامل تھا جہاں نامور شخصیات اور شاہی خاندان کے افراد آتے تھے۔ تاہم، حیرت انگیز طور پر یہ عمارت کئی دہائیوں تک سرکاری نقشوں اور ریکارڈ میں پوشیدہ رکھی گئی۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں واقع بی ٹی ٹاور (BT Tower) اپنے دور کا ایک ایسا انجینئرنگ کا شاہکار اور حیرت انگیز مقام ہے جو کہ ایک وقت میں برطانیہ کی سب سے بلند ترین عمارت کا اعزاز رکھتا تھا۔ اس عمارت کی شان و شوکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر سے نامور شخصیات، فلمی ستارے اور یہاں تک کہ شاہی خاندان کے افراد بھی اپنی شامیں یہیں گزارا کرتے تھے۔ ہزاروں افراد اس عمارت کی زیارت کے لیے آتے تھے اور اس کی خوبصورتی کے چرچے عام تھے۔ تاہم، اس تمام تر شہرت اور بلند قامتی کے باوجود اس عمارت کے حوالے سے ایک ایسا دلچسپ اور حیرت انگیز تاریخی حقیقت جڑی ہے جو آج بھی لوگوں کو دنگ کر دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی بھرپور رونق اور شہرت کے باوجود یہ عمارت کئی دہائیوں تک سرکاری طور پر 'وجود ہی نہیں رکھتی تھی'۔ قانون اور حکومتی ریکارڈ کی حد تک اس عمارت کا نام و نشان موجود نہیں تھا اور اسے ایک خفیہ اور پوشیدہ مقام کی حیثیت حاصل تھی۔ اس عمارت کی اس عجیب و غریب حیثیت کے پیچھے سرد جنگ کے دور کے حفاظتی اور سکیورٹی خدکات کارفرما تھے۔ حکومت اور دفاعی اداروں کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس اہم مواصلاتی مرکز کی موجودگی کو سرکاری دستاویزات سے صیغہ راز میں رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا جاسوسی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگوں کی نظروں میں مقبول ہونے کے باوجود یہ ٹاور قانون کی کتابوں میں غائب رہا۔ آج وقت بدل چکا ہے اور بی ٹی ٹاور نہ صرف لندن کے اسکائی لائن کا ایک لازمی اور نمایاں حصہ بن چکا ہے بلکہ اسے تاریخی ورثے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس کی یہ انوکھی تاریخ آج بھی سیاحوں اور تاریخ دانوں کے لیے شدید تجسس کا باعث بنتی ہے کہ کس طرح دنیا کے اتنے بڑے شہر میں ایک اتنا بڑا ٹاور ہونے کے باوجود سرکاری طور پر اسے غائب رکھا گیا تھا۔