LIVE
Loading Breaking News...

ایلون مسک اور مکیش امبانی تنازعہ، سٹار لنک بھارت میں تاخیر کا شکار

News Image
ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے بھارت میں سٹار لنک کی لانچنگ میں تاخیر پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی صنعت کار مکیش امبانی ہی اصل میں اس تاخیر کے ذمہ دار ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بھارت میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس 'سٹار لنک' کے داخلے میں ہونے والی مبینہ تاخیر پر بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مسک کا یہ بیان عالمی میڈیا اور کاروباری حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے، جہاں دونوں بڑی شخصیات کے درمیان کاروباری مسابقت کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں مکیش امبانی کو اشارتاً بھارت کا 'اصل باس' قرار دیا، جس کا مقصد ممکنہ طور پر یہ ظاہر کرنا تھا کہ ریلائنس جیو اور دیگر بھارتی مواصلاتی کمپنیاں ریگولیٹری فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ سٹار لنک طویل عرصے سے بھارتی منڈی میں قدم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم مختلف قانونی اور پالیسی جاتی رکاوٹوں کے باعث اس عمل میں مسلسل تاخیر واقع ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، بھارتی ٹیلی کام سیکٹر میں پہلے ہی زبردست مقابلہ جاری ہے جہاں مکیش امبانی کی ریلائنس جیو اور ایئرٹیل جیسی کمپنیاں منڈی کی سرکردہ کھلاڑی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سٹار لنک کی بھارت میں آمد سے مقامی ٹیلی کام مارکیٹ کی حرکیات یکسر بدل سکتی ہیں، بالخصوص دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا ہے جب بھارت میں سیٹلائٹ سپیکٹرم کی تقسیم اور اس کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ ایلون مسک چاہتے ہیں کہ سپیکٹرم کی الاٹمنٹ شفاف اور عالمی معیار کے مطابق ہو، جبکہ مقامی کمپنیاں اس حوالے سے اپنے تحفظات رکھتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ بھارتی حکومت اس معاملے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور سٹار لنک کو ملک میں کب تک کام کرنے کی اجازت ملتی ہے۔