World
روسی صدر پوتن کا ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرین کے حملوں اور امن مذاکرات پر بیان
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نو منتخب یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس پر ہونے والے ڈرون حملے امن مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کریملن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ انتخابات کے دوران ماسکو پر حملوں نے سہ فریقی امن کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ہم منصب یا رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے دوران واضح کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے جاری ڈرون حملوں کی وجہ سے فی الحال امن مذاکرات کے کامیاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کریملن کے حکام کے مطابق، گزشتہ ماہ روس میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران ماسکو اور دیگر علاقوں پر ہونے والے ان حملوں نے فریقین کے درمیان کسی بھی قسم کے سہ فریقی یا دوطرفہ امن عمل کو شدید طور پر سبوتاژ کیا ہے۔ روسی قیادت کا ماننا ہے کہ اس طرح کی جارحانہ کارروائیاں امن کی کسی بھی امید کو ختم کر دیتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، کریملن کی طرف سے یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ روس کا اصرار ہے کہ جب تک یوکرین کی افواج روسی سرزمین اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتی ہیں، تب تک کسی بھی معنی خیز بات چیت کا آغاز ممکن نہیں۔ ماسکو انتظامیہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حالیہ انتخابی عمل کے دوران حملے دراصل امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی، جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
دوسری جانب، عالمی سیاسی حلقوں میں پوتن اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر یا اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس جنگ کو بہت کم عرصے میں ختم کر سکتے ہیں، تاہم روس کی طرف سے آنے والے اس تازہ بیان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ زمینی حقائق اور جنگی صورتحال اتنی آسان نہیں جتنا کہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک دونوں فریقین جنگ کے میدان میں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں لاتے، اس وقت تک کسی بھی پائیدار امن معاہدے تک پہنچنا ایک انتہائی مشکل ہدف رہے گا۔