World
جنوبی سوڈان میں فرقہ وارانہ تشدد، رمبيك میں 71 ہلاک
جنوبی سوڈان کے علاقے رمبيك میں بیرونی عناصر کی طرف سے قبضے کی کوشش کے بعد ہونے والی خونریز جھڑپوں میں 71 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکومت کی سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پاتے ہوئے شہر کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔
جنوبی سوڈان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں پھوٹ پڑنے والی فرقہ وارانہ جھڑپوں اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں کم از کم 71 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان پرتشدد جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب چند بیرونی عناصر اور مسلح گروہوں نے ملک کے اہم علاقے رمبيك پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مقامی آبادی اور حملہ آوروں کے درمیان شدید تصادم شروع ہو گیا۔ رمبيك کے اندرونی حصوں میں ہونے والی اس خوں ریزی نے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنا پڑی اور سیکیورٹی فورسز کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کیا گیا۔ حکام کی جانب سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے رمبيك شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا گیا ہے اور علاقے میں اضافی فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق اب حالات عموماً قابو میں ہیں اور امن و امان کی بحالی کے لیے گشت بڑھا دیا گیا ہے تاہم علاقے میں اب بھی تناؤ کی کیفیت برقرار ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی اور مقامی اداروں نے اس ہلاکت خیز تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ جنوبی سوڈان میں طویل عرصے سے نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی چلی آ رہی ہے جس کی وجہ سے آئے روز اس طرح کے پرتشدد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ اب اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ مزید خون خرابی کو روکا جائے اور قبائلی رہنماؤں کے ساتھ مل کر مستقل امن کے لیے بات چیت کا آغاز کیا جائے تاکہ رمبيك اور گردونواح کے متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی بحال ہو سکے۔