LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران اور یوکرین جنگ جلد ختم کرنے کا دعویٰ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ اور روس یوکرین کے تنازعات کو جلد از جلد حل یا فتح کر لیں گے۔ انہوں نے ان دیرینہ جنگوں کے خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
امریکہ کے نومنتخب یا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور تنازعات کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد یا اپنی حکمت عملی کے تحت ایران اور روس یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگوں کو جلد از جلد 'حل یا فتح' کر لیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے ایک بار پھر عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں زبردست ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ یہ دونوں تنازعات اس وقت دنیا کے سب سے بڑے سیاسی اور عسکری بحران سمجھے جا رہے ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔ ٹرمپ پہلے بھی کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ امریکہ کے صدر ہوں تو وہ اس جنگ کو چوبیس گھنٹوں کے اندر ختم کرا سکتے ہیں۔ ان کا تازہ ترین بیان اس بات کا عکاس ہے کہ وہ ان تمام عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جارحانہ اور تیز رفتار سفارتی یا عسکری حکمت عملی اپنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے تعلقات بھی شدید کشیدہ ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ میں کسی بھی وقت بڑی جنگ کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کار ڈونلڈ ٹرمپ کے اس عزم کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی کاروباری شخصیت اور غیر روایتی سفارت کاری تنازعات کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس قسم کے بلند بانگ دعوے زمینی حقائق کے اتنے آسان نہیں ہیں۔ ایران کے معاملے پر سخت گیر مؤقف اور روس یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کا دباؤ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ دنیا بھر کے ممالک اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ خارجہ پالیسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بالخصوص یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے یہ بیانات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ٹ realmente ان تنازعات کو پرامن طریقے سے سلجھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ عالمی تاریخ کا ایک بہت بڑا موڑ ثابت ہو گا، بصورت دیگر یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ عوام اور میڈیا کی نظریں اب وائٹ ہاؤس کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔