Business
پاکستان کی ترسیلات زر میں جولائی تا ستمبر 14 فیصد اضافہ
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستانی ورکرز کی ترسیلات زر میں چودہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے مجموعی حجم دس اعشاریہ نو ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ سعودی عرب ترسیلات بھیجنے والا سب سے بڑا ملک رہا جبکہ برطانیہ سے آنے والی رقوم میں سب سے زیادہ نمو دیکھی گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی تا ستمبر کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں چودہ فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مجموعی ترسیلات زر کا حجم بڑھ کر دس اعشاریہ نو ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے، جو کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران نو اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تھا۔ اگرچہ ستمبر کے مہینے میں اگست کے مقابلے میں ترسیلات میں ایک اعشاریہ نو فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی سہ ماہی کارکردگی حکومت کے سالانہ مالی ہدف کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔مختلف ممالک کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب بدستور پاکستان کو سب سے زیادہ ترسیلات بھیجنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے، جہاں سے دو اعشاریہ چھ آٹھ چھ ارب ڈالر موصول ہوئے۔ دوسری جانب، اہم ذرائع میں برطانیہ سے آنے والی رقوم میں سب سے زیادہ نمو ریکارڈ کی گئی جو انیس اعشاریہ چار فیصد اضافے کے ساتھ ایک اعشاریہ چھ چار تین ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ متحدہ عرب امارات نے دو اعشاریہ دو تین ارب ڈالر کا حصہ ڈالا، جبکہ یورپی یونین اور دیگر خلیجی ممالک سے بھی ترسیلات میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو متعدد معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی شرائط کو پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ ترسیلات زر کی اس بڑھتی ہوئی شرح سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے اور حکومتی معاشی اہداف کو کچھ ریلیف ملا ہے، تاہم بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ان فوائد کو محدود کر رہا ہے۔ اس کے باوجود، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی یہ رقوم ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ملکی برآمدی کمائی سے بھی تجاوز کر چکی ہیں جو ملکی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔