LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا فیصلہ: ٹرائل کورٹس خود نوٹس پر دعوے مسترد کر سکتی ہیں

News Image
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ٹرائل کورٹس کسی باضابطہ درخواست کے بغیر بھی قانونی طور پر ناپسندیدہ یا وقت گزر جانے والے دعوے خود بخود مسترد کر سکتی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ عدالتی وقت بچانے اور غیر ضروری مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ٹرائل کورٹس کسی باضابطہ درخواست کا انتظار کیے بغیر خود نوٹس لے کر ایسے دعوے مسترد کر سکتی ہیں جو قوانین کی رو سے وقت گزر جانے کی وجہ سے ناقابلِ سماعت ہوں یا جن کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سندھ ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ آبزرویشن دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد غیر ضروری اور بے بنیاد مقدمہ بازی کا خاتمہ کرنا اور عدالتی وقت کا ضیاع روکنا ہے۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق یہ تنازع کراچی کے علاقے راشد منہاس روڈ پر عسکری فور کے ایک بنگلے سے متعلق تھا۔ اصل مدعیان نے جائیداد کے دعوے اور قبضے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا جہاں ستمبر 2024 میں ٹرائل کورٹ نے دعویٰ اس بنیاد پر خارج کر دیا تھا کہ یہ مقررہ وقت کے بعد دائر کیا گیا تھا۔ تاہم سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر معاملے کو دوبارہ کارروائی کے لیے واپس بھیج دیا۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر آٹھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کے آرڈر 7 رول 11 اور لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے سیکشن 3 کے تحت کورٹس کے پاس یہ وسیع اختیارات موجود ہیں کہ وہ ابتدائی مرحلے پر ہی غیر موثر اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر دیں۔ عدالت نے زور دیا کہ اگر ابتدائی طور پر ہی یہ ظاہر ہو کہ دعوے میں کوئی قانونی جواز یا کاز آف ایکشن موجود نہیں ہے تو جج بغیر کسی دوسرے فریق کے سمن جاری کیے بھی دعویٰ خارج کرنے کا مجاز ہے۔ اس سے فریقین کو غیر ضروری قانونی جھمیلوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی دعوے کو مسترد کرنے سے پہلے جج کو یہ جانچنا ہوگا کہ آیا دعویٰ قانوناً بار شدہ ہے یا نہیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جہاں قانون اور حقائق کے معاملات آپس میں جڑے ہوں وہاں باقاعدہ فریقین کا موقف سن کر اور شواہد کی روشنی میں ہی فیصلہ کیا جائے۔ فیصلے کے آخر میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ فریقین کو سننے کے بعد مقدمے کی قابلِ سماعت ہونے پر قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔