World
پاکستان اور ترکیہ کا انسداد دہشت گردی اور منشیات کے خلاف معاہدہ
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف مشترکہ تعاون کا نیا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ترکیہ کے وزیر داخلہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں اور بہتری کو سراہا ہے۔
اسلام آباد اور انقرہ کے تعلقات میں ایک اور اہم باب کا اضافہ کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ترکیہ کے ہم منصب مصطفیٰ ژفتچی کے درمیان استنبول میں ترک وزارت داخلہ کے دفتر میں ہونے والی ملاقات کے دوران عمل میں آئی۔ وزارت داخلہ کے میڈیا ونگ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، دونوں ممالک کے وزراء نے باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔
ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں برادر ممالک کی وزارت داخلہ کے مابین اشتراک کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک 'جوائنٹ ورکنگ گروپ' قائم کیا جائے گا۔ یہ ورکنگ گروپ تکنیکی مدد، ماہرین کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے سائبر پولیسنگ، اینٹی نارکوٹکس فورس، نیشنل پولیس اکیڈمی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں باصلاحیت روابط کو فروغ دے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ترک وزیر داخلہ کو پاکستان کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن مافیا کے خلاف کی جانے والی سخت اور فیصلہ کن کارروائیوں کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سے آگاہ کیا۔
ترک وزیر داخلہ نے پاکستان کی ان کوششوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ترکیہ میں پاکستان سے غیر قانونی ہجرت کی شرح جو ماضی میں ستر فیصد تک تھی، اب نمایاں طور پر کم ہو کر سترہ فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے اس شاندار کمی کو سراہتے ہوئے پاکستان کے اقدامات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ دونوں وزرائے داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ان دنوں ترکیہ کے سرکاری دورے پر استنبول میں موجود ہیں جہاں ہوائی اڈے پر ان کا انتہائی گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ اس دورے کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعلقات میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔