LIVE
Loading Breaking News...

مکّہ دفاعی معاہدہ: پارلیمنٹ کی منظوری لازمی نہیں، دفتر خارجہ کا بیان

News Image
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ طے پانے والے مکّہ دفاعی معاہدے کے تحت فوج کی تعیناتی کے لیے پارلیمنٹ کی پیشگی منظوری آئینی اور قانونی طور پر لازمی نہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان علاقائی سلامتی کو فروغ دینے کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) ترجمان دفتر خارجہ نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ مکّہ دفاعی معاہدے کے تحت بیرون ملک فوج کی تعیناتی کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری لینا قانونی اور آئینی طور پر لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اس اہم دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے بعد خطے میں فوجی تعاون کے حوالے سے نئے مباحثے نے جنم لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ خطے کی سلامتی، دفاعی استعداد کار میں اضافے اور باہمی تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لیے طے پایا ہے۔ اس تناظر میں پاکستانی فوج کے عسکری حلقے خلیجی خطے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہیں، تاہم سیاسی اور پارلیمانی حلقوں میں اس موضوع پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں جن کے جواب میں دفتر خارجہ نے قانونی پوزیشن واضح کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ سے پاکستان اور خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب کے تعلقات میں مزید گہرائی آئے گی، جب کہ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت پر ایران سمیت دیگر ممالک کی جانب سے بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ دفتر خارجہ کا موقف ہے کہ دفاعی معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے موجودہ ملکی قوانین اور ضابطوں کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی مفادات کا بھرپور تحفظق کیا جا سکے۔