Pakistan
صدر اور وزیراعظم کا پاکستان میں ذہنی صحت کی آگاہی اور معاشرتی رویے بدلنے پر زور
صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ معاشرے سے ذہنی دباؤ اور امراض سے جڑی جھجک کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
اسلام آباد: صدرِ مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے ملک بھر میں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی مہم کو فروغ دینے اور اس سے وابستہ معاشرتی بدنامی یا شرم کے خاتمے کی شدید ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر فلاحی ادارے بھی پاکستان میں ذہنی تناؤ اور اس کے ساختی مسائل پر کھل کر بات کرنے کی وکالت کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ عامۃ الناس میں دماغی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل پر زور دیا جو ذہنی مسائل کے شکار افراد کے لیے کسی بھی قسم کی شرمندگی یا سماجی دباؤ سے پاک ہو۔ انہوں نے اس ضمن میں قومی ذہنی صحت کی پالیسی (نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی) کے اہم خدوخال پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس شعبے میں بہتری لانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ جب تک معاشرتی رویے تبدیل نہیں ہوتے، اس وقت تک متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنا مشکل ہوگا۔
ماہرینِ نفسیات اور عالمی اداروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان میں ذہنی دباؤ اور پریشانی صرف انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے ساختی اور معاشرتی اسباب بھی کارفرما ہیں۔ معاشی مشکلات، مہنگائی اور دیگر سماجی دباؤ کی وجہ سے عام آدمی کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات اور قومی رہنماؤں کی جانب سے اس موضوع پر بات کرنا ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کا عزم ہے کہ تعلیمی اداروں، کام کرنے کی جگہوں اور میڈیا کے توسط سے ذہنی صحت کے موضوع کو عام کیا جائے گا تاکہ لوگ بلا جھجھک اپنے مسائل کا ذکر کر سکیں اور بروقت طبی و نفسیاتی مدد حاصل کر سکیں۔ صدر اور وزیراعظم کی اس اپیل کے بعد ملک بھر میں صحتِ عامہ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جس سے امید کی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں معاشرتی رویوں میں بہتری آئے گی۔