LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے حملے، پولیس اہلکار شہید اور لاش برآمد

News Image
صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے پے در پے پُرتشدد واقعات کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرے کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ ان ناخوشگوار واقعات میں کرک کے مقام پر بھی حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے سیکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ہے۔ ضلع خیبر میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں ایک پولیس اہلکار کو شہید کر دیا گیا ہے جبکہ دوسرے پولیس اہلکار کی لاش بھی ایک مقام سے برآمد ہوئی ہے جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں واقعات کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب صوبے کے دوسرے ضلع کرک میں بھی مسلح افراد کی جانب سے پولیس پر شدید حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت ایک حملہ آور بھی ہلاک جبکہ متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ اس حملے نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی سیکیورٹی اور حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت کے مطابق طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ان لرزہ خیز واقعات پر صوبائی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سیکیورٹی پالیسیوں اور ترجیحات پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے جبکہ عوام کی بڑی تعداد اپنے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کر رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے حکومت اور عسکری اداروں کو فوری اور سخت ترین اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔ یاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشتگردی اور امن و امان کے بحران کا شکار چلا آ رہا ہے، جہاں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار سب سے زیادہ ہدف بن رہے ہیں۔ عوامی اور سماجی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فورس کو جدید اسلحہ اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ اس قسم کے بزدلانہ حملوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دے سکیں اور صوبے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔