Business
بھارتی روپیہ اور مرکزی بینک کے نئے مالیاتی اقدامات
بھارتی ریزرو بینک نے روپے کی قدر میں گراوٹ کو روکنے کے لیے ڈالر کی مانگ پر سخت پابندیوں کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تیل کمپنیوں کو سپاٹ مارکیٹ سے ہٹا کر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنا ہے۔
بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے گرتی ہوئی ملکی کرنسی کی قدر کو سنبھالنے اور سہارا دینے کے لیے ڈالر کی مانگ پر سخت پابندیوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی منڈیوں اور اندرونی دباؤ کے باعث بھارتی روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی تھی، جس سے نمٹنے کے لیے مرکزی بینک نے کئی اہم اور سخت مالیاتی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت فاریکس ڈیریویٹو قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں غیر ضروری قیاس آرائیوں اور ڈالر کی مصنوعی مانگ کو روکا جا سکے۔اس سلسلے میں مرکزی بینک نے نمائش یا ایکسپوزر کی حد کو ایک سو ملین ڈالر سے کم کر کے محض پانچ ملین ڈالر کر دیا ہے، جو ایک بڑا فیصلہ ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی ریزرو بینک نے تین سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے ایک خصوصی ڈالر ونڈو بھی کھول دی ہے۔ اس خصوصی اقدام کا بنیادی مقصد ان بڑی سرکاری تیل کمپنیوں کو براہ راست سپاٹ مارکیٹ سے ہٹانا ہے تاکہ وہاں ڈالر کی فوری اور شدید مانگ کی وجہ سے روپے پر پڑنے والے منفی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں سے وقتی طور پر زرمبادلہ کی منڈی میں استحکام پیدا ہوگا اور روپے کی قدر میں ہونے والی تیز رفتار گراوٹ کو کسی حد تک بریک لگائی جا سکے گی۔ تاہم، طویل مدتی بنیادوں پر ملکی معیشت اور برآمدات کی صورتحال ہی روپے کی اصل سمت کا تعین کرے گی۔ حکومت اور مرکزی بینک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران ملکی معیشت کو کیسے محفوظ رکھا جائے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھا جائے۔