LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا ستمبر جابز ڈیٹا: بے روزگاری اور معاشی چیلنجز

News Image
کینیڈا کے ادارہ شماریات کی جانب سے ستمبر کے ملازمتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے جا رہے ہیں جو معاشی سمت کا تعین کریں گے۔ ملک میں ملازمتوں میں مسلسل کمی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافے نے شرح سود کے حوالے سے نئی بحث چھوٹی ہے۔
کینیڈا کا ادارہ شماریات آج صبح ستمبر کے ملازمتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرنے جا رہا ہے، جن کے حوالے سے معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں میں گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق کینیڈا میں بے روزگاری کی شرح پہلے ہی بڑھ کر 6.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ستمبر کے مہینے میں بھی ملازمتوں کے مسلسل نقصان نے ملک کی معاشی ترقی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ بلومبرگ اور دیگر معاشی ذرائع کے مطابق مسلسل دوسرے مہینے کینیڈا میں روزگار کے مواقع میں غیر متوقع کمی دیکھی گئی ہے، جس میں خواتین اور نوجوانوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی جنگ کے بادلوں اور دیگر معاشی دباؤ کی وجہ سے کینیڈا کی لیبر مارکیٹ کو شدید دھچکا لگا ہے اور حالیہ مہینوں میں دکانوں، فیکٹریوں اور مختلف کاروباری شعبوں سے ہزاروں ملازمتیں ختم کی جا چکی ہیں۔ ملازمتوں میں ہونے والی اس کمی نے کینیڈا کے مرکزی بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے حوالے سے فیصلوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ معیشت استحکام کی طرف گامزن ہے، لیکن تازہ ترین اعداد و شمار نے مرکزی بینک کے لیے شرح سود میں کمی یا اضافے کے فیصلے کو مشکل کر دیا ہے۔ عام شہریوں اور ملازم پیشہ طبقے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے کم ہوتے ہوئے مواقع کے باعث شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر روزگار کے فروغ کے لیے موثر حکمت عملی وضع نہیں کرتے، تو ملک میں معاشی سست روی مزید گہری ہو سکتی ہے اور کاروباری اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ آج جاری ہونے والے اعداد و شمار سے یہ واضح ہو جائے گا کہ آنے والے مہینوں میں کینیڈا کی معیشت کس سمت کا رخ کرے گی اور لیبر مارکیٹ کو سنبھالا دینے کے لیے کن ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔