Business
ایلن مسک کے خلاف عوامی ردعمل پر کولمبیا کے ماہرِ معاشیات کی حیرت
کولمبیا یونیورسٹی کے ایک ماہرِ معاشیات نے اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ایلن مسک کی بڑھتی ہوئی غیرمقبولیت کے باوجود عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑے کیوں نہیں ہو رہے۔ یہ بیان ٹیکنالوجی اور دنیا بھر میں ارب پتی شخصیات کے اثر و رسوخ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نت نئی جدتیں لانے والے ادارے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ ایلن مسک اگرچہ عوامی سطح پر کافی تنازعات اور غیرمقبولیت کا شکار ہو چکے ہیں، تاہم حال ہی میں کولمبیا یونیورسٹی کے ایک ممتاز ماہرِ معاشیات نے اس بات پر سخت حیرت کا اظہار کیا ہے کہ عام لوگ کھل کر ان کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کر رہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جتنی مخالفت اور تنقید سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع پر ایلن مسک کو ملتی ہے، حقیقت میں زمینی سطح پر اس کے خلاف کوئی بڑی عوامی تحریک یا احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔
ایلن مسک اس وقت دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے پاس خلائی تحقیق سے لے کر الیکٹرک گاڑیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک وسیع تر کاروباری سلطنت موجود ہے۔ جدید دور میں ان کی پالیسیاں اور بیانات اکثر متنازع ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام اور سول سوسائٹی کے ایک طبقے میں ان کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، معاشیات کے ماہرین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنی بڑی طاقت اور وسائل کے حامل شخص کے خلاف عوام سڑکوں پر کیوں نہیں آ رہے یا کوئی منظم تحریک کیوں شروع نہیں ہو سکی۔
اس صورتحال نے ماہرینِ معاشیات اور سماجیات کو ایک نئے مباحثے میں الجھا دیا ہے کہ آیا جدید سرمائے دارانہ نظام میں عام آدمی اس قدر بے بس ہو چکا ہے کہ وہ طاقتور کارپوریٹ رہنماؤں کو چیلنج ہی نہیں کر سکتا، یا پھر عوام کی ترجیحات اب روایتی احتجاجی سیاست سے ہٹ کر دوسری سمت میں جا چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے نام اب اس حد تک روزمرہ زندگی میں رچ بس گئے ہیں کہ ان کے خلاف اٹھنا عام صارف کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید بحث متوقع ہے کہ کس طرح عالمی کارپوریٹ شخصیات اور ارب پتی افراد عوامی تنقید کے باوجود اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھتے ہیں۔ کولمبیا کے ماہرِ معاشیات کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معاشی اور سماجی سطح پر اب روایتی احتجاج کے طریقے کمزور پڑ رہے ہیں اور کارپوریٹ طاقت کے سامنے عام انسان کی آواز دبتی جا رہی ہے۔