Politics
گرین پارٹی انتہا پسندوں کے خلاف حفاظتی اقدامات پر غور کر رہی ہے
گرین پارٹی کی ویسٹ منسٹر رہنما ایلی چونز کا کہنا ہے کہ پارٹی یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ وہ انتہا پسند عناصر کے لیے کسی بھی طرح کمزور نہ ہو۔ یہ بیان سابق رہنما کی طرف سے صونیت کی تحریک پر ووٹنگ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
گرین پارٹی کی ویسٹ منسٹر رہنما ایلی چونز نے حالیہ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی جماعت یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے انتہا پسندانہ اثرات یا عناصر کے لیے غیر محفوظ نہ ہو۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب پارٹی کی سابق رہنما کارولین لوکاس نے انکشاف کیا کہ کچھ نئے اراکین نے صونیت یعنی سائن ازم سے متعلق تحریک میں ووٹ دینے کی غرض سے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس صورتحال نے پارٹی کی اندرونی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور قیادت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ جماعت کے اندر نظم و ضبط اور سیاسی اقدار کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ ایلی چونز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ گرین پارٹی کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو پارٹی کے بنیادی اصولوں اور نظریات پر یقین رکھتا ہے، تاہم جماعت کی پالیسیوں کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے روکا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی قیادت اس بات کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے کہ رکنیت سازی کے عمل میں کن بہتریوں کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کے بیرونی یا انتہا پسندانہ نظریات کے حامل افراد کو سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، گرین پارٹی کے لیے یہ ایک نازک موڑ ہے جہاں انہیں اپنی بڑھتی ہوئی سیاسی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے نظریاتی تشخص کو بھی انتہا پسندانہ رسہ کشی سے محفوظ رکھنا ہوگا۔