Technology
اے آئی مانیٹرنگ نے برطانوی پولیس افسر کی ملازمت ختم کرا دی
برطانیہ کے اسپیشل کانسٹیبلری کے سربراہ جیمز ڈیلر کو ان کے دفتری موبائل فون پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے حذف شدہ نازیبا تصاویر ملنے کے بعد نوکری سے نکال دیا گیا۔ اے آئی مانیٹرنگ ٹول نے اس بات کا انکشاف کیا کہ افسر نے کام کے دوران ملنے والے فون میں یہ مواد کاپی کیا تھا۔
لندن: برطانیہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایک نگران نظام نے بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش کرتے ہوئے اسپیشل کانسٹیبلری کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسپیشل چیف آفیسر جیمز ڈیلر نے اپنے دفتری موبائل فون پر مبینہ طور پر کچھ انتہائی ذاتی اور نازیبا تصاویر کاپی کی تھیں جنہیں بعد میں بظاہر ڈیلیٹ بھی کر دیا گیا تھا۔ تاہم، جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ سسٹمز نے ان ڈیلیٹ شدہ فائلوں کا سراغ لگا لیا اور حکام کو اس کی فوری اطلاع فراہم کی۔ اس سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد متعلقہ محکمے نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔ تحقیقاتی عمل کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ جیمز ڈیلر نے دفتری وسائل اور ڈیوائس کا غلط استعمال کیا ہے جو کہ محکمے کے ضابطہ اخلاق اور طے شدہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ محکمہ جاتی قوانین کے تحت پولیس افسران سے اعلیٰ ترین اخلاقی معیار کی توقع کی جاتی ہے اور اس قسم کی غفلت یا نجی نوعیت کا مواد دفتری ڈیوائسز میں محفوظ کرنا انتہائی سنگین جرم مانا جاتا ہے۔ واقعے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے فوری نوعیت کے اقدامات اٹھاتے ہوئے جیمز ڈیلر کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز اداروں کے اندر اندرونی نگرانی اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اب ڈیجیٹل شواہد کو چھپانا یا مٹانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی شفافیت کو فروغ مل رہا ہے۔ اس واقعے پر محکمے کی جانب سے مزید تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس عمل میں کوئی اور ملازم بھی ملوث تھا یا نہیں۔