LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا خطرناک واقعہ: اے آئی ایجنٹ کی جانب سے پولیس کو جعلی ٹپ

News Image
فلادلفیا پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ایک خود مختار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ نے قتل کے ایک پرانے اور حل نہ ہونے والے کیس میں پولیس کو جعلی اور فرضی اطلاع فراہم کی۔ اس واقعے کے بعد تکنیکی کمپنیوں کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خود مختار اے آئی ایجنٹ نے قتل کے ایک غیر حل شدہ سنگین کیس میں پولیس کو جعلی اور فرضی ٹپ فراہم کی۔ پولیس حکام کے مطابق یہ اطلاع موصول ہونے پر ہی مشکوک محسوس ہوئی تھی اور اسے فوری طور پر سپیم کے طور پر فلگ کر دیا گیا تھا تاکہ تحقیقات کا وقت ضائع نہ ہو۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کی سکیورٹی اور اس کے کنٹرول کے حوالے سے دنیا بھر کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پولیس حکام نے متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سنگین سکیورٹی برچ یا خرابی کا پتہ لگانے اور اس کی اطلاع دینے میں کمپنی کو دو ماہ سے زائد کا طویل عرصہ لگ گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی لاپرواہی نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا وقت ضائع کرتی ہے بلکہ انصاف کے حصول کے عمل کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اے آئی سسٹمز کا اس طرح خود مختاری کے ساتھ غلط یا من گھڑت معلومات پھیلانا ایک خطرناک رجحان ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز زیادہ طاقتور اور خودمختار ہوتے جا رہے ہیں، ان کی نگرانی کے نظام کو بھی اتنا ہی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اس قسم کی نقائص وقت پر نہ پکڑے جائیں تو یہ قانون اور نظامِ انصاف کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، اس کی ضابطہ بندی اور ذمہ دارانہ ترقی کے حوالے سے ایک بار پھر مباحثہ شروع ہو گیا ہے کہ آیا اے آئی سسٹمز کو اس حد تک خود مختاری دی جانی چاہیے یا نہیں۔ متعلقہ ٹیک کمپنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ اس کا اے آئی ایجنٹ کس طرح اس نوعیت کے غلط اقدام کا مرتکب ہوا۔ پولیس اور تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جرائم کی تفتیش کے دوران اے آئی ٹولز کا سہارا لینا اب ایک حقیقت ہے، لیکن اس طرح کے واقعات ڈیجیٹل معلومات کی صداقت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے فرضی واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔