World
امریکہ میں عوامی سزائے موت کی واپسی اور نضال حسن کا معاملہ
امریکہ میں تقریباً ایک صدی بعد عوامی سزائے موت کی بحث نے زور پکڑ لیا ہے، جبکہ پینٹاگون کے مطابق فورٹ ہڈ کے شوٹر نضال حسن کی سزائے موت کو لائیو اسٹریم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملکی مزاج کا غلط اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
امریکہ میں تقریباً ایک صدی کے طویل عرصے کے بعد عوامی سزائے موت کے نفاذ اور اس کی لائیو اسٹریمنگ کے حوالے سے ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ فورٹ ہڈ کے فائرنگ واقعے میں ملوث نضال حسن کی سزائے موت کو براہ راست دکھایا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد ملک بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جن کا ماننا ہے کہ ریاست کی طرف سے اس قسم کے اقدامات معاشرے میں تشدد کے رجحان کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ میں عوامی سطح پر پھانسیاں دینے کا رواج بیسویں صدی کے اوائل میں ہی ختم کر دیا گیا تھا، جس کا مقصد اس عمل کو عدالتی کارروائی تک محدود رکھنا اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنا تھا۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ موجودہ حکام اس معاملے میں عوامی مزاج اور جدید اخلاقی تقاضوں کا درست ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سزائے موت جیسے انتہائی قدم کو لائیو اسٹریم کرنے سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے بجائے انتقامی جذبات کو ہوا مل سکتی ہے، جو کہ ایک مہذب معاشرے کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ دوسری جانب، پینٹاگون کے اس فیصلے کے ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے عدالتی نظام کے بارے میں منفی تاثر ابھر سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سزائے موت کا خاتمہ ہی دنیا بھر میں انسانی وقار کی بحالی کا واحد راستہ ہے، اور اس عمل کو میڈیا کی زینت بنانا کسی بھی طرح سے مثبت تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتا۔