World
روسی حملہ زاپوریژیا میں تباہی، بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق
یوکرین کے شہر زاپوریژیا میں ایک رہائشی عمارت پر روسی فضائی حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یوکرین کے جنوبی شہر زاپوریژیا میں روسی افواج کی جانب سے کیے جانے والے ایک تباہ کن گلائڈ بم حملے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد لقمہ اججل بن گئے ہیں۔ اس المناک واقعے میں بچوں سمیت کئی عام شہری بھی شامل ہیں، جس سے پورے علاقے میں شدید سوگ کی فضا قائم ہے۔ مقامی حکام کے مطابق حملہ اتنا شدید تھا کہ ایک بڑی رہائشی اپارٹمنٹ بلڈنگ زمین بوس ہو گئی، جس سے اندر موجود مکینوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں مل سکا۔ تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے دبے ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو اور امدادی ٹیمیں دن رات سرگرم عمل ہیں۔ یوکرینی حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے میں امدادی کارروائیاں انتہائی کٹھن حالات میں جاری ہیں کیونکہ بار بار سائرن بجنے اور مزید حملوں کے خطرے کے باوجود ریسکیو ورکرز ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس ہولناک حملے کے بعد یوکرین کے اعلیٰ حکام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جنہوں نے بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر مزید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس طویل تنازع میں عام شہریوں کے جانی و مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس پر دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلائڈ بموں کا استعمال جنگی علاقوں میں رہائشی آبادیوں کے لیے ایک انتہائی مہلک خطرہ بن چکا ہے جو بلڈنگز کو پل بھر میں ملبے کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔ زاپوریژیا میں پیش آنے والے اس تازہ ترین واقعے نے ایک بار پھر جنگ کی بھیانک حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں معصوم بچے اور خاندان جنگ کا براہ راست نشانہ بن رہے ہیں۔