Health
کرسچن ولسن کی نئی آواز اور برمی لہجے کی کہانی
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کرسچن ولسن نے گلے کے کینسر کے بعد صوتی تبدیلی کے ذریعے ایک نیا برمنگھم لہجہ اپنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نئی آواز انہیں روزمرہ زندگی میں ایک نیا اعتماد فراہم کرتی ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کرسچن ولسن کی کہانی اس وقت دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گئی جب انہوں نے اپنی گلے کی سرجری اور کینسر کے علاج کے بعد ایک نئی آواز اور ایک نیا لہجہ اپنایا۔ کرسچن ولسن کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے یہ چاہتے تھے کہ ان کی آواز کسی روبوٹ، سائبرگ یا سائنس فکشن فلم کے کردار جیسی محسوس نہ ہو، بلکہ وہ قدرتی انداز میں بات چیت کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک انوکھا طبی اور تکنیکی سفر طے کیا جس میں صوتی ٹیکنالوجی کی مدد سے انہیں برمنگھم کا مخصوص لہجہ عطا کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسچن کو کینسر کی تشخیص کے بعد گلے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے ان کی اصلی آواز متاثر ہو گئی تھی۔ روایتی الیکٹرانک آوازیں عام طور پر روبوٹک اور بے جان محسوس ہوتی ہیں، جو اکثر مریضوں کے لیے ذہنی کوفت کا باعث بنتی ہیں۔ اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے لیے انہوں نے جدید صوتی ڈونیشن پروگرام کا سہارا لیا، جہاں رضاکاروں کی آوازوں کے نمونے لے کر مریضوں کے لیے قدرتی لہجے تیار کیے جاتے ہیں۔ برمی لہجے کے حصول نے ان کی زندگی میں ایک مثبت انقلاب برپا کر دیا ہے۔
کرسچن ولسن کا مزید کہنا ہے کہ یہ عطیہ کردہ لہجہ نہ صرف انہیں پرسکون انداز میں بات کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے بلکہ اس سے ان کے اندرونی اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اب وہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے کسی جھجھک کا شکار نہیں ہوتے اور اپنی روزمرہ کی گفتگو کو معمول کے مطابق جاری رکھتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی صوتی ٹیکنالوجی ایسے تمام مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے جو بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں یا جن کی آوازیں روبوٹک محسوس ہوتی ہیں۔