World
غزہ میں صحت کا نظام: جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی بحران برقرار
مسلسل حملوں اور طبی امداد پر پابندیوں کی وجہ سے غزہ میں فلسطینیوں کی اموات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ زخمیوں کو بروقت باہر نہ جانے دینے اور طبی سامان کی قلت نے صورتحال کو انتہائی گھمبیر بنا دیا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کو ایک سال بیت چکا ہے لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ علاقے کا صحت کا نظام اب بھی مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔ مسلسل جاری رہنے والے حملوں، ادویات اور طبی امداد کی ترسیل پر عائد سخت پابندیوں نے فلسطینی عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ اسپتالوں اور بنیادی طبی مراکز کو درپیش شدید بحران کی وجہ سے ہزاروں مریض اور زخمی مناسب علاج سے محروم ہیں۔ طبی عملے کو نہ صرف وسائل کی کمی کا سامنا ہے بلکہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق غزہ میں شدید زخمی ہونے والے افراد کو بیرونِ ملک علاج کے لیے لے جانے میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے، جو کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا ایک بڑا سبب بن رہی ہے۔ ڈاکٹروں اور امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ بروقت ادویات اور سرجیکل آلات نہ ملنے کی وجہ سے معمولی زخم بھی جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ اسپتالوں کے جن حصوں کو نقصان پہنچا تھا، ان کی مرمت یا بحالی کا کام بھی ناگزیر رکاوٹوں کی نذر ہو رہا ہے، جس سے صحت کی دیکھ بھال کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ کی سرحدیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے نہ کھولی گئیں اور زخمیوں کے انخلاء میں حائل رکاوٹیں ختم نہ کی گئیں تو مزید قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ مقامی آبادی کو صاف پانی اور خوراک کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے صحت کا شعبہ ایک ایسی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے جس پر فوری بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔