World
سعودی اتحاد کا یمن میں حوثیوں کیخلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک وسیع اور همہ جہت فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد خطے میں سکیورٹی خدشات سے نمٹنا اور حوثی عناصر کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم عسکری اتحاد نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد یمن کے مختلف علاقوں میں سرگرم حوثی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور ان کی جارحانہ کارروائیوں کا مؤثر جواب دینا ہے۔ سعودی اتحاد کے حکام کے مطابق یہ اقدام خطے کے امن و امان کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی خطرات کے تدارک کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس وسیع آپریشن کے تحت حوثی زیرِ کنٹرول علاقوں میں عسکری تنصیبات اور اہم اسٹریٹجک اہداف کو فضائی اور دیگر ذرائع سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر کی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے حالات سازگار بنانا ہے۔ اتحادی افواج کی جانب سے حوثی ملیشیا کی جانب سے ہونے والے حالیہ حملوں اور اشتعال انگیزیوں کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
یمن میں جاری یہ تازہ ترین فوجی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تاہم، حوثی باغیوں کی طرف سے پے در پے ہونے والی کارروائیوں کے بعد سعودی اتحاد کو مجبوراً ایک بار پھر بھرپور عسکری ردعمل دینا پڑا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے آپریشن کے نتیجے میں یمن کے تنازعے کی نوعیت ایک بار پھر تبدیل ہو سکتی ہے اور زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، بین الاقوامی برادری نے یمن کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ سعودی اتحاد کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا اور یمن کی قانونی حکومت کی بحالی تک اپنی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ آنے والے دنوں میں اس آپریشن کے اثرات یمن کی جنگ اور خطے کی مجموعی سیاست پر گہرے مرتب ہونے کا امکان ہے۔