Politics
وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ٹیلی فون کرکے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کے دوران وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کی دعوت بھی دی تاکہ ملکی امور اور سیاسی کشیدگی پر بات چیت کی جا سکے۔
اسلام آباد: ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیشرفت کے دوران وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ٹیلی فون کیا۔ اس اعلیٰ سطحی رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملک کے مجموعی سیاسی حالات، پارلیمانی امور اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو جلد ملاقات کی دعوت دی ہے تاکہ تمام امور پر کھل کر بات چیت کی جا سکے۔
حالیہ دنوں میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی اور ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے سیاسی حلقوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پس منظر میں وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی یہ گفتگو انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں سیاسی مستقبل کے فیصلے کرنے میں اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے مولانا کو دیے جانے والے اس دعوت نامے کے بعد دونوں رہنماؤں کی ملاقات جلد متوقع ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی حکومت کے ساتھ تعلقات اور وفاق میں سیاسی محاذ آرائی کو کم کرنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تاکہ معاشی اصلاحات اور قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی حکومت کے اقدامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور سیاسی میدان میں مختلف جماعتیں اپنی اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا اس تمام صورتحال میں کیا مؤقف ہوگا اور وہ حکومت کو کیا تجاویز دیتے ہیں، یہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا رخ متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ عوام اور سیاسی پنڈت دونوں کی نظریں اب وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کی ہونے والی اس متوقع ملاقات پر مرکوز ہیں۔