World
امریکی پابندیوں کے باوجود روس سے ڈیزل کی درآمد کیوجہ
امریکی پالیسی میں ایک حیرت انگیز موڑ کے تحت روس سے ڈیزل کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس فیصلے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
امریکی پابندیوں کے باوجود روس سے ڈیزل کی خریداری کے فیصلے نے عالمی سیاسی اور معاشی حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق، اس اقدام کو امریکی پالیسی میں ایک بڑا اور غیر متوقع موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، لیکن اندرونی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی انتظامیہ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کے نرخوں میں کمی لانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا سیاسی مجبوری بن چکا تھا، اسی دباؤ کے تحت یہ معاہدہ طے پایا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے نے یوکرین میں سخت ردعمل کو جنم دیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ان کے اتحادی اس فیصلے پر سخت برہم نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے روس پر دباؤ کم ہوگا اور اس کی معیشت کو سہارا ملے گا۔ دوسری طرف، ماہرین معاشیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی تیل کی رسد میں روسی ڈیزل کے اضافے سے عالمی منڈی یا مقامی سطح پر قیمتوں میں کوئی بہت زیادہ یا انقلابی کمی واقع ہونے کا امکان نہیں ہے، تاہم یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور فوری ریلیف کے لیے ایک بڑا قدم ضرور ہے۔
اس صورتحال نے مغربی ممالک کے دوہرے معیار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جو ایک طرف روس کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اپنی ضرورت کے تحت اسی ملک سے توانائی کے وسائل خرید رہے ہیں۔ عالمی خبر رساں ایجنسی الجزیرہ اور بی بی سی کے تجزیوں کے مطابق، اس معاہدے کے طویل مدتی اثرات امریکی خارجہ پالیسی اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر گہرے مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ واشنگٹن اپنے اس فیصلے کا دفاع کس طرح کرتا ہے اور کیا یہ اقدام واقعی عام امریکی صارفین کے لیے مہنگائی کے طوفان کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔