World
ٹرمپ کا ناروے پر نوبل امن انعام نہ دینے پر کڑا تنقیدی وار
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبل امن انعام نہ ملنے پر ناروے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ملک کی تاریخ کا ایک مٹ نہ سکنے والا داغ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے کمیشن کی سربراہ نوی پلے کو 2026 کا نوبل امن انعام دیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نوبل امن انعام نہ دینا اس ملک کے ماتھے پر ایک ایسا مٹ نہ سکنے والا داغ ہے جو کبھی صاف نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر نوبل امن انعام کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو چکی ہے اور مختلف شخصیات کے ناموں پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر اس بات پر شدید برہم ہیں کہ ان کے دورِ حکومت میں ہونے والے مختلف بین الاقوامی امن معاہدوں اور سفارتی کامیابیوں کے باوجود انہیں اس وقار سے محروم رکھا گیا۔ ٹرمپ کے حامیوں کا طویل عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن معاہدوں کے قیام اور دیگر عالمی تنازعات کے حل میں ان کا کردار نوبل انعام کا مستحق تھا، تاہم نوبل کمیٹی نے اس حوالے سے روایتی طور پر مختلف فیصلے کیے۔
دوسری جانب ایک الگ پیش رفت میں سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج اور غزہ میں نسل کشی کا اعلان کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کی سربراہ نوی پلے کو 2026 کا نوبل امن انعام دیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں اور سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر چہ مگوئیاں جاری ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ناروے پر تنقید کا یہ تازہ بیان ان کی پرانی شکایات کا تسلسل ہے جو وہ وقتاً فوقتاً عالمی اداروں اور نارویجن نوبل کمیٹی کے فیصلوں کے خلاف کرتے آئے ہیں۔ عالمی سیاست کے تناظر میں ٹرمپ کے اس بیان کو ایک بار پھر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ان کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور بیانیے میں بین الاقوامی اداروں پر تنقید کا عنصر ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔