Business
سمندری طوفان اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
آنے والے سمندری طوفان کے پیش نظر تیل کی پیداوار معطل کرنے اور مشرق وسطیٰ میں رس رسد کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے توانائی کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ ایک آنے والا شدید سمندری طوفان ہے جس کے پیش نظر کئی اہم مقامات پر تیل کی پیداوار کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت سمندری حدود اور تنصیبات سے عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے جس سے رسد کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے عارضی بندش نے پہلے سے دباؤ کا شکار مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحیرہ ہرمز کے قریب جہاز رانی پر حملوں کے واقعات نے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان جغرافیائی سیاسی تنازعات اور جنگی خطرات کے باعث تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے جس کا براہ راست اثر تیل کی بین الاقوامی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے موجودہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ماہرین معاشیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر طوفان کی شدت توقع سے زیادہ رہی اور پیداوار کی معطل مدت طویل ہوئی تو قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں دنیا بھر کے درآمد کنندگان متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں تیل کی مارکیٹ کی سمت کا دار و مدار طوفان کے نقصانات اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال پر ہوگا۔