LIVE
Loading Breaking News...

ریاض ایئرپورٹ پر مبینہ حملہ: متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات

News Image
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے کو مبینہ طور پر ایک بار پھر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ہوائی اڈے پر دو ہلاکت خیز حملوں کے دعوے کے ٹھیک ایک دن بعد پیش آیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایک بار پھر مبینہ طور پر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس تازہ واقعے نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متعلقہ حکام اور سیکیورٹی ادارے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ نقصان کے حجم کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور فضائی حدود کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ مبینہ حملہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض کے ہوائی اڈے پر کیے جانے والے دو ہلاکت خیز حملوں کے دعوے کے محض ایک دن بعد پیش آیا ہے۔ یمنی باغیوں کی طرف سے مسلسل بڑھتی ہوئی ان کارروائیوں نے سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے بعد ہوائی اڈے کے اطراف میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن کو خراب کرنے کی سازش ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور شہری آبادی کے تحفظ کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ سعودی عسکری اور دفاعی نظام اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر ہائی الرٹ پر ہیں، اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری جوابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں اور مبصرین نے اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں۔ ہوائی اڈے پر ہونے والے اس تازہ حملے کے بعد فضائی سفر اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔